احسان کا بدلہ احسان

کس ملک کا بادشاہ بہت ظالم تھا وہ اپنے غلاموں پر ظلم و ستم کرتا اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جاتی تھی ایک مرتبہ کا غلام اس سے تنگ آکر وہاں سے بھاگ گیا اور جنگل میں چلا گیا غلام نے شیر کو دیکھا اس نے دیکھا کہ شیر کے پاؤں میں نوکدار کانٹے چبھا ہوا ہے غلام نے ہمت باندھی اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے شیر کے قریب گیا اس نے قریب جا کر دیکھا تو شیر درد کے مارے کرا رہا تھا غلام میں جا کر جلدی سے اس کے پاؤں میں سے نوکدار کانٹے کو نکالا اور اپنی قمیض کو پھاڑ کر اس کے پاؤں پر باندھ دیا غلام کے اس علم سے شیر کو راحت پہنچی اس کا زخم تھوڑا سا ٹھیک ہوا اور اس کے درد میں کمی آئی تو شیر جنگل میں چلا گیا اور یوں ہی غلام بی وہاں سے چلا گیا غلام درختوں کے سائے تلے لیٹ جاتا تو آپ سو جاتا اور جنگلی پھل کھاتا اور ان سب سے اپنا پیٹ بھر لیتا کچھ دنوں بعد بادشاہ کے سپاہی غلام کی تلاش میں جنگل پہنچ گئے انہوں نے غلام کو گرفتار کیا اور بادشاہ کے پاس لے گئے بادشاہ نے غلام کو فائدہ دینے کے لئے بھوکے شیر کے سامنے پھینکنے کا حکم دیا اور بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی غلام کو شیر کے سامنے پھینک دیا گیا شیر غلام کو پہچان گیا اور اپنا سر اس کے قدموں میں رکھ دیا وہاں پر موجود سب لوگ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور بادشاہ بھی بادشاہ نے غلام سے اس واقعے کی وجہ دریافت کی غلام نے جنگل میں پیش آیا تارا ماں کا بادشاہ کو بتا دیا بادشاہ یہ سب سن کر بہت شرمندہ ہوا اس نے اب اپنے غلاموں پر سختیاں اور ظلم و ستم سے توبا مانگ لی کیونکہ اب وہ جان چکا تھا نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اچھے عمل کا صلہ اچھائی کی صورت میں ضرور ملتا ہے.
نتیجہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے

احسان کا بدلہ احسان
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x